ویٹیکن، 7؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) پوپ فرانسس نے یوکرین کے پرچم کو چومتے ہوئے بوچا شہر میں لوگوں کے قتل کی مذمت کی ہے۔ ویٹیکن میں ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، پوپ نے کہا "یوکرین میں شہریوں، خواتین اور بچوں کے خلاف ظلم کیا جا رہا ہے۔ راحت اور امید کی بجائے یوکرین سے حالیہ تنازعے کی خبریں آرہی ہیں جو بوکا میں ہونے والے قتل عام جیسی نئی بربریت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس جنگ کو ختم کرو، ہتھیاروں کو ختم کرو، موت اور تباہی کو روک دو۔‘‘
اس دوران پوپ نے یوکرین سے لائے گئے جھنڈے کو بھی بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہداء کے شہر بوچا سے لایا گیا ہے۔ ان کا ایسا کرنا تمام حاضرین کو بہت پسند آیا۔ اپنے خطاب کے آخر میں انھوں نے کچھ پناہ گزین یوکرینی بچوں کو اسٹیج پر بلاکر کہا، ’’ان بچوں کو محفوظ جگہ کی تلاش میں فرار ہوکر ایک اجنبی شہر میں آباد ہونا پڑا ہے۔ یہ خود جنگ کا نتیجہ ہے۔ انہیں مت بھولنا، یوکرین کے لوگوں کو مت بھولنا"۔
جنگ روکنے میں ناکامی پر بین الاقوامی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ ہم نے یوکرین میں جاری جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیموں کا کردار دیکھا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امن کے نئے دور کی بنیاد رکھنے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن بدقسمتی سے طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کی پرانی روایت جاری رہی۔ ہم اس وقت یوکرین میں جنگ کے دوران بین الاقوامی اداروں کی نااہلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔